+نلسن منڈیلا: لڑتا ہے اور ہاتھ میں تلوار بھی نہِیں

+نلسن منڈیلا: لڑتا ہے اور ہاتھ میں تلوار بھی نہِیں
نلسن منڈیلا: لڑتا ہے اور ہاتھ میں تلوار بھی نہِیں
نلسن مینڈیلا آزادی کے مشہور متوالوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی نسل پرست طاقتوں سے لڑتے گزاری اور اپنے ملک جنوبی افریقہ کو آزادی دلائی۔ مینڈیلا جولائی 18، 1918 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے باپ مقامی قبیلہ کے سرکردہ رہنما تھے۔ مینڈیلا کو بچپن میں 'رولیہلاہلا' پیار کا نام دیا گیا تھا جس کے معنی ان کی زبان 'خوسہ' میں شریر کے ہوتےہیں۔ ان کا انتقال 5 دسمبر 2013 کو جوہانس برگ، جنوبی افریقہ، میں ہوا۔ 1964 میں ان پر مقدمہ چلا، استغاثہ نے سزائے موت مانگی لیکن جج نے عمر قید لکھ دی۔ انہیں 1977 میں رہائی ملی لیکن اس عرصے میں ان کا ایک بچّہ کی اور ان کی والدہ فوت ہو چکے تھے۔ یہاں ہم ان کی مشہور تقریر جو انہوں نے 1964 میں عدات میں اپنا اور پارٹی کا دفع کرتے ہوئے دی تھی، پیش کرتے ہیں۔
میرے معزّز جج صاحب، میں پہلا ملزم ہوں۔
میں بی اے ہوں، اور کئی سال تک جوہانسبرگ میں وکالت کرتا رہا، وہاں میں نے اس مقدمے کے ایک اور ملزم، مسٹر اولیور ٹامبو، کے ساتھ کام کیا۔ میں ایک سزا یافتہ قیدی ہوں، اور پانچ سال کی سزا کاٹ رہا ہوں، جو مجھے بغیر اجازت ملک چھوڑنے، اور مئی 1961 کے آخر میں لوگوں کو ہڑتال پر اُکسانے کے جرم میں دی گئی تھی۔
میں فوری طور پر یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں بھی شامل تھا اُن لوگوں میں جنہوں نے "امکونتو وے سیزوے" کی تشکیل میں حصّہ لیا، اور اگست 1962 میں اپنی گرفتاری تک میں اس کے معاملات میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا رہا۔ اس بیان میں، جو میں اب دینے والا ہوں، میں ان غلط تاثّرات کو دور کرنے کی کوشش کروں گا جو سرکاری گواہوں نے پیدا کیے ہیں۔ دیگر باتوں کے ساتھ، میں یہ بھی واضح کروں گا کہ شہادتوں میں جن بعض کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ "امکونتو وے سیزوے" کی طرف سے نہیں کی گئی تھیں، اور نہ ہی کی جا سکتی تھیں۔
میں ایفریکن (افریقی) نیشنل کانگریس کے ساتھ تعلّقات، اور ان دونوں تنظیموں کے معاملات میں اپنے ذاتی کردار پر بھی روشنی ڈالوں گا۔ میں کمیونسٹ پارٹی کے کردار کا بھی ذکر کروں گا۔ ان تمام باتوں کی مناسب وضاحت کے لیے مجھے یہ بیان کرنا ہوگا کہ "امکونتو" کے مقاصد کیا تھے؛ ان مقاصد کے حصول کے لیے اس نے کون سے طریقے تجویز کیے؛ اور یہ طریقے کیوں اختیار کیے گئے۔ میں یہ بھی واضح کروں گا کہ میں کس طرح ان تنظیموں کی سرگرمیوں میں شامل ہوا۔
ابتدا ہی میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ریاست کی جانب سے اس کے ابتدائی بیان میں جو یہ تاثّر دیا گیا ہے کہ، جنوبی افریقہ کی جدّوجہد بیرونی افراد یا کمیونسٹوں کے زیرِ اثر ہے، سراسر غلط ہے۔ میں نے جو کچھ بھی کیا، خواہ ایک فرد کی حیثیت سے یا اپنی قوم کے رہنما کے طور پر، وہ جنوبی افریقہ میں اپنے ذاتی تجربات اور اپنے فخر سے بھرپور افریقی پس منظر کی بنیاد پر کیا، نہ کہ کسی بیرونی شخصیت کے کہنے پر۔
اپنے بچپن میں، ٹرینسکے میں، میں اپنی قوم کے بزرگوں سے ان کے پرانے زمانے کی کہانیاں سنتا تھا۔ ان کہانیوں میں میرے آبا ؤ اجداد کی وہ جنگیں بھی شامل تھیں جو انہوں نے اپنے وطن کے دفاع میں لڑی تھیں۔ ڈنگانے، بامباتھا، ہنٹسا، ماکانا، سکنگاتھی، دالاسیلے، موسہوشوئے اور سیکھوخونے وہ نام تھے جنہیں پوری افریقی قوم کا فخر اور شان کے طور پرسرہایا جاتا تھا۔ اُس وقت میں امید کرتا تھا کہ زندگی مجھے بھی اپنے لوگوں کی خدمت کا موقع دے اور میں ان کی آزادی کی جدّوجہد میں اپنا معمولی سا حصّہ ڈال سکوں۔ یہی جذبہ اس مقدمے میں مجھ پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے میرے ہر عمل کی بنیاد رہا ہے۔
یہ بات کہنے کے بعد، میں فوراً اور کچھ تفصیل کے ساتھ تخریب کاری کے سوال پر بات کروں گا۔ اب تک عدالت میں جو کچھ پیش کیا گیا ہے، اس میں کچھ باتیں درست ہیں اور کچھ غلط۔ تاہم، میں اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ میں نے تخریب کاری کی منصوبہ بندی کی۔ میں نے یہ منصوبہ بندی نہ تو لاپروائی کے جذبے سے کی اور نہ ہی مجھے تشدّد سے کوئی محبّت ہے۔ بلکہ میں نے یہ فیصلہ ایک پُرسکون اور سنجیدہ جائزے کے بعد کیا، جو کئی برسوں سے میرے لوگوں پر سفید فاموں کی ظلم، استحصال اور جبر کی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر مبنی تھا۔
میں اس بات کی تردید کرتا ہوں کہ "امکونتو" ان متعدد کارروائیوں کی ذمّہ دار تھی جو واضح طور پر تنظیم کی پالیسی سے باہر تھیں، مگر جنہیں ہمارے خلاف فردِ جرم میں شامل کیا گیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کارروائیوں کا کوئی جواز تھا یا انہیں، اور کس نے انہیں انجام دیا؛ لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ "امکونتو" کی طرف سے نہ تو منظور کی گئی تھیں اور نہ ہی کی جا سکتی تھیں، میں مختصراً تنظیم کی بنیاد اور اس کی پالیسی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ میں ان افراد میں شامل تھا جنہوں نے "امکونتو" کی بنیاد رکھی۔ میں اور میرے ساتھیوں نے یہ تنظیم دو وجوہات کی بنا پر قائم کی۔ پہلی وجہ یہ تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں افریقی عوام کی جانب سے تشدّد ناگزیر ہو چکا تھا، اور اگر ان کے جذبات کو منظّم اور قابو میں رکھنے کے لیے ذمّہ دار قیادت فراہم نہ کی جاتی، تو دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوتے جو ملک کی مختلف نسلوں کے درمیان ایک ایسی شدّت کی نفرت اور دشمنی پیدا کر دیتے جو جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم نے سمجھ لیا تھا کہ تخریب کاری کے بغیر افریقی عوام کے پاس سفید فام کی برتری کے اصول کے خلاف اپنی جدّوجہد میں کامیابی حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ اس اصول کے خلاف پرامن اور قانونی طریقوں سے اظہارِ مخالفت کے تمام راستے قانون سازی کے ذریعے بند کر دیے گئے تھے، اور ہمیں اس صورتحال میں لا کھڑا کیا گیا تھا کہ یا تو ہم ہمیشہ کے لیے کمتر حیثیت کو قبول کر لیں یا حکومت کی نافرمانی کریں۔ ہم نے حکومت کی نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ ابتدا میں ہم نے قانون کو بغیر تشدّد کا راستہ اپنائے توڑا؛ لیکن جب اس طریقے کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا اور حکومت نے اپنی پالیسیوں کی مخالفت کو کچلنے کے لیے طاقت کا استعمال شروع کیا، تب ہم نے فیصلہ کیا کہ تشدّد کا جواب تشدّد سے دیا جائے۔
لیکن جس تشدد کو ہم نے اختیار کیا، وہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ہم، جنہوں نے "امکونتو" کی بنیاد رکّھی، سب کے سب ایفریکن نیشنل کانگریس کے رکن تھے، اور ہمارے پیچھے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے اے این سی کی عدم تشدّد اور مزاکرات کی روایت موجود تھی۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ جنوبی افریقہ ان تمام لوگوں کا ہے جو اس میں رہتے ہیں، نہ کہ کسی ایک گروہ کا، چاہے وہ سیاہ فام ہو یا سفید فام۔ ہم نسلی جنگ نہیں چاہتے تھے اور آخری حد تک اس سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔ اگر عدالت کو اس بارے میں کوئی شک ہو تو ہماری تنظیم کی پوری تاریخ اس بات کی تصدیق کرے گی، اور آئندہ جب میں اُن حکمتِ عملیوں کا ذکر کروں گا جو "امکونتو" نے اختیار کیں، تو یہ بات مزید واضح ہو جائے گی۔ لہٰذا میں ایفریکن نیشنل کانگریس کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔
ایفریکن نیشنل کانگریس (اے این سی) 1912 میں اس مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی کہ افریقی عوام کے اُن حقوق کا دِفاع کیا جا سکے جو جنوبی افریقہ ایکٹ کے تحت بُری طرح محدود کر دیے گئے تھے۔ نیٹو لینڈ ایکٹ (مقامیوں کی ملکیّتِ زمین سے متعلق دفع) نے ان کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا اور افریقی عوام کے حقوق کو مزید خطرات لاحق ہو گئے۔
سینتیس سال تک، یعنی 1949 تک، ایفریکن نیشنل کانگریس نے مکمل طور پر آئینی جدّوجہد کا راستہ اختیار کیے رکھا۔ اس نے اپنے مطالبات اور قراردادیں پیش کیں اور وفود حکومت کے پاس بھیجے۔ اسے یقین تھا کہ افریقی عوام کی شکایات کو پُرامن بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور وہ بتدریج مکمل سیاسی حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن سفید فام حکومتوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ افریقی عوام کے حقوق میں اضافے کے بجائے مسلسل کمی آتی گئی۔
میرے رہنما چیف لوتھولی، جو اے این سی کے صدر بنے اور بعد میں نوبل امن انعام سے بھی نوازے گئے، کے الفاظ میں، "کون انکار کر سکتا ہے کہ میری زندگی کے تیس سال، بے نتیجہ، ایک بند اور اپنی پہنچ سے دُور دروازے پر، صبر کا دامن پکڑے، تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے اور انکساری کے ساتھ، دستک دیتے گزرے؟ اعتدال پسندی کا کیا نتیجہ نکلا؟ گزشتہ تیس برسوں میں ایسے قوانین کی سب سے زیادہ تعداد سامنے آئی جنہوں نے ہمارے حقوق اور ترقّی کو محدود کیا، یہاں تک کہ آج ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمارے پاس حقوق نہ ہونے کے برابر ہیں۔" یہ چیف لوتھولی کے الفاظ تھے ۔
1949 کے بعد بھی اے این سی تشدّد سے بچنے کے لیے پُرعزم رہی، تاہم اس کے احتجاج کے طریقۂ کار میں تبدیلی آئی۔ اب ماضی کے خالص آئینی طریقوں کے بجائے یہ فیصلہ کیا گیا کہ نسلی امتیاز، یعنی اپارتھائیڈ، کے قوانین کے خلاف پُرامن مگر قانون شکنی کے ذریعے مظاہرے کیے جائیں۔ اسی پالیسی کے تحت اے این سی نے اپنی "مہم حکم عدولی" شروع کی، جس میں مجھے رضاکاروں کی قیادت کی ذمّہ داری سونپی گئی۔
یہ مہم عدم تشدّد کے اصول پر مبنی تھی۔ ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد افراد نے اپارتھائیڈ کے قوانین کی خلاف ورزی کی اور جیل گئے، لیکن پوری مہم کے دوران تشدّد کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس طرح احتجاج کرنے والوں نے سخت حالات کے باوجود عدمِ تشدّد کی پالیسی پر عمل جاری رکھا۔
میں اور میرے 19 ساتھی بھی اس مہم میں اپنا کردار ادا کرنے کی وجہ سے مجرم قرار دیے گئے۔ ہمیں "انسدادِ اشتراکیّت ایکٹ" کے تحت سزا دی گئی، حالاںکہ ہماری مہم کا کمیونزم سے کوئی تعلّق نہیں تھا۔ بعد میں ہماری سزائیں معطّل کر دی گئیں۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ جج نے تسلیم کیا کہ پوری مہم کے دوران نظم و ضبط اور عدمِ تشدّد پر زور دیا گیا تھا۔
یہ وہی زمانہ تھا جب اے این سی کا رضاکار شعبہ قائم کیا گیا اور "امادے لاکوفا" کی اصطلاح پہلی مرتبہ استعمال ہوئی۔ اسی دوران رضاکاروں سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ کچھ اصولوں کی پابندی کریں گے۔ اس مقدمے میں رضاکاروں اور ان کے حلف سے متعلّق شواہد بھی پیش کیے گئے ہیں، لیکن ان شواہد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
رضاکار نہ تو کسی 'سیاہ فام' فوج کے سپاہی تھے اور نہ ہیں، جو سفید فاموں کے خلاف خانہ جنگی لڑنے کے لیے تیّار کیے گئے ہوں۔ وہ دراصل ایسے مخلص کارکن تھے اور ہیں جو اے این سی کی جانب سے شروع کی جانے والی مہمّات میں قیادت اور عملی کام کے لیے تیّار رہتے تھے۔ ان کا کام پمفلٹ تقسیم کرنے، ہڑتالوں کا اہتمام کرنے یا کسی بھی مخصوص مہم کی ضرورت کے مطابق خدمات انجام دینے تک پھیلا ہوا تھا۔
انہیں رضاکار اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان سزاؤں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے تھے جو قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں مقرّر کی گئی تھیں، مثلاً قید یا کوڑے مارنے کی سزا۔
مہم حکم عدولی کے دوران قانونِ تحفظِ عامّہ اور قانونِ ترمیمِ فوجداری منظور کیے گئے۔ ان قوانین کے تحت احتجاج کے دوران کیے جانے والے جرائم کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ اس کے باوجود احتجاج جاری رہا اور اے این سی نے اپنی عدمِ تشدّد کی پالیسی برقرار رکّھی۔
1956 میں کانگریس الائنس کے 156 سرکردہ ارکان، جن میں میں خود بھی شامل تھا، کو غدّاری اور انسدادِ اشتراکیّت ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ ریاست نے اے این سی کی عدمِ تشدّد کی پالیسی پر اعتراض اٹھایا، لیکن تقریباً پانچ سال بعد عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ اے این سی کی پالیسی تشدّد پر مبنی نہیں تھی۔ بالآخر ہمیں تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔
ان الزامات میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ اے این سی موجودہ نظام کی جگہ ایک اشتراکی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔ منڈیلا کے مطابق، حکومت اپنے مخالفین کی ہتّکِ تحریری کرنے، اور انہیں کمیونسٹ قرار دینے کی کوشش کرتی تھی۔ ان کے بقول، اے این سی نہ کبھی اشتراکی تنظیم رہی تھی، اور نہ ہی اس وقت ایسی تنظیم تھی۔
1960 میں شارپ ویل میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اس کے نتیجے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی اور اے این سی کو ایک غیر قانونی تنظیم قرار دے دیا گیا۔ میرے ساتھیوں اور میں نے غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ ہم اس حکم کی تعمیل نہیں کریں گے۔
افریقی عوام نہ تو حکومت کا حصّہ تھے اور نہ ہی ان قوانین کی تشکیل میں شامل تھے جن کے تحت انہیں چلایا جا رہا تھا۔ ہم انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے اس اصول پر یقین رکھتے تھے کہ، "حکومت کے اقتدار کی بنیاد، عوام کی مرضی ہونی چاہیے۔" ہمارے لیے اس پابندی کو قبول کرنا افریقی عوام کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کے مترادف تھا۔
اے این سی نے خود کو تحلیل کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بجائے زیرِ زمین اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ہمارا خیال تھا کہ اس تنظیم کو محفوظ رکھنا ہماری ذمّہ داری ہے، کیونکہ اسے تقریباً پچاس سال کی مسلسل جدّوجہد سے قائم کیا گیا تھا۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی باوقار سفید فام سیاسی تنظیم، اگر اسے کسی ایسی حکومت نے غیر قانونی قرار دیا ہوتا جس میں اس کی کوئی نمائندگی نہ ہو، تو وہ بھی خود کو تحلیل نہ کرتی۔
اب، جنابِ والا، میں ان شواہد سے نمٹنا چاہتا ہوں جن کے ذریعے اس مقدمے میں اصل صُورتِ حال کو مسخ کیا گیا ہے۔ بعض شواہد میں ایم-پلان کو مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ دراصل 1953 میں بنایا گیا ایک تنظیمی طریقۂ کار تھا، جسے مختلف علاقوں میں کسی حد تک کامیابی کے ساتھ نافذ کیا گیا۔ اپریل 1960 کے بعد نئے طریقے اختیار کرنا پڑے، مثلاً چھوٹی کمیٹیوں پر انحصار کرنا۔
ایم پلان کا ذکر غدّاری کے مقدمے میں بھی آیا تھا، مگر اس کا تخریب کاری یا "امکھونتو وے سیزوے" سے کوئی تعلّق نہیں تھا، اور اسے "امکھونتو" نے کبھی نہیں اپنایا۔
خاص طور پر(مشرقی راس) ایسٹرن کیپ (کیپ بر وزن جیب) کے بعض گواہوں کے بیانات میں پیدا ہونے والی الجھن کی ایک بڑی وجہ "ہائی کمانڈ" کی اصطلاح کا استعمال ہے۔ یہ اصطلاح پورٹ الزبتھ میں ہنگامی حالت کے دوران استعمال میں آئی، جب اے این سی کے بیشتر رہنما جیل میں تھے۔ اس وقت شکایات کے ازالے کے لیے بنائی گئی جیل کمیٹی کو "ہائی کمانڈ" کہا جاتا تھا۔ ہنگامی حالت کے بعد یہ اصطلاح رائج ہو گئی اور اس علاقے میں اے این سی کی بعض کمیٹیوں کے لیے بھی استعمال ہونے لگی۔
اسی وجہ سے ہمیں گواہوں کے بیانات میں "ویسٹ بینک ہائی کمانڈ" اور "پورٹ الزبتھ ہائی کمانڈ" کا ذکر سننے کو ملا۔ منڈیلا کے مطابق، یہ نام نہاد "ہائی کمانڈز" "امکھونتو" کے قیام سے پہلے وجود میں آچکی تھیں اور ان کا تخریب کاری سے کوئی تعلّق نہیں تھا۔
درحقیقت، جیسا کہ میں آگے وضاحت کروں گا، "امکھونتو" کو بطور تنظیم، جہاں تک ممکن ہوا، اے این سی سے الگ رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے، جنابِ والا، کہ بینیٹ مشیانے اور ریجینلڈ نڈوبے جیسے افراد نے ان اجلاسوں میں تخریب کاری کے بارے میں کچھ نہیں سنا جن میں وہ شریک ہوئے تھے۔ تاہم، "ہائی کمانڈ" کی اصطلاح کے استعمال نے مشرقی صوبے میں اے این سی کے حلقوں میں کچھ اختلافات بھی پیدا کیے۔
(جاری ہے)

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ