یوم کافی مبارک قسط چار

یوم کافی مبارک قسط چار
یومِ قہوہ مبارک
آج انتیس ستمبر ہے، آج یومِ کافی منایا جا رہا ہے۔ آپ سب کو مبارک ہو انہیں بھی جو پی رہے ہیں اور انہیں بھی جو پیدا کر رہے ہیں۔ کافی برِ سغیر میں تو نہیں لیکن دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک محبوب مشروب ہے۔ ہم برِ سغیر والے چاےؑ کے دلدادا ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تیل کے بعد کافی کی تجارت سب سے بڑی ہے۔ ہم علم زا میں اس پر تین قسطیں دے چکے ہیں اب یہ چوتھی اور آخری قسط ہے۔ اس میں ہم بتا رہے ہیں کہ کافی کہاں کہاں اور کتنی ہوتی ہے۔

بلند مقامات اچّھے
بلند مقامات کافی کی فصل کے لیے اچّھے ہوتے ہیں۔ ٹھنڈی، گیلی آب و ہوا میں کافی کا پھل آہستہ آہستہ پکتا ہے اور ایک نیا ذائقہ پیدا کرتا ہے۔ ایتھوپیا میں سطح سمندر سے 5000 فٹ (1500 میٹر) پر اگی کافی میں آپ کچھ تیز ذائقے کی توقع کر سکتے ہیں۔ برازیلی کافی 4000 فٹ (1200 میٹر) پر اگتی ہے وہاں پہ پھل سخت ہوتے ہیں اور کچھ چاکلیٹ کے مزے کی ہوتے ہیں۔ جبکہ 3000 فٹ (900 میٹر) کی انچائی پر اگنے والی کافی کچھ پھیکی سی، بے مزا سی رہتی ہے۔

پیداوار میں کافی وقت لگتا ہے
پودے سے آپ کے کپ تک کافی ایک طویل عمل سے گزرتی ہے۔ کافی بنانے والے اپنی کافی کے جھاڑی نما پودوں میں پھل نکلنے تک کوئی ڈھائی سال انتظار کرتے ہیں۔ پودوں کے پہلے چھ ماہ سایہ دار نرسریوں میں گزرتے ہیں، اس وقت انہیں خاصی دیکھ بھال کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ آخری لیکن سب سے زیادہ محنت والا مرحلہ کٹائی ہے – ان پھلوں کو اکثر ہاتھ سے چنا جاتا ہے کیونکہ یہ درخت ڈھلوانوں پر اگتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سےخطرہ
ایک طرف کیفین والے مشروبات کے لیے دنیا کی پیاس بڑھ رہی ہے، دوسری طرف کافی کی صنعت کے لیے موسمیاتی تبدیلی خطرہ بڑھا رہی ہے۔ بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اور موسم کی بے قاعدگی، گرمی اور برسات میں تبدیلیاں، حساس عربیکا پودوں کے لیے تباہی ہے۔ برازیل میں 2050 تک 25% کافی اگانے والی زمین کافی کے قابل شاید موزوں نہ رہے، جس سے بہت سے کسان بے روزگار ہو جائیں گے۔

تھوک کافی کے تھیلے
یہ ذکر پہلے ضروری ہے کہ کافی تھوک منڈی میں کس اکایٗ سے تولی جاتی ہے۔ روایتی طور پر کافی کی پھلیاں ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کے لیے بڑی بڑی پٹسن کی بوریاں جنہیں ہم پاکستان میں باردانہ کہتے ہیں استعمال ہوتی ہیں۔ ایک بوری میں 60 کلوگرام (130 پاؤنڈ) کا مال آتا ہے، کافی کے لیے اس قسم کے تھیلے کی ابتدا برازیل میں ہوئی اور یہ عالمی معیار بن گیا۔ اور یہ آج تک کافی کی ایک پیمائشی اکائی بھی بن گیا ہے، مثال کے طور پر کافی کی پیداوار پر عالمی ادارہؑ خوراک کے اعدادوشمار 60 کلو کے تھیلوں میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ کچھ ممالک، جیسے کولمبیا ہے، 70 کے جی کے تھیلے استعمال کرتے ہیں۔

60 کلو کی بوری کو، پلاسٹک، پولی پروپلین یا پولی تھیلین کے بڑے تھیلوں سے بدلا جانا شروع ہو رہا ہے، اور یہ کافی کی برآمدات کے لیے تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں- خاص طور پر برازیل سے۔

جوٹ یا کپڑے کے تھیلوں کی اپنی بات ہے کہ وہ ماحول دوست ہوتے ہیں۔ جبکہ پلاسٹک کے تھیلیاں ہلکی ہیں، نمی سے بچاوٗ ہے، کم قیمت، دیرپا اور بھی ان کی خصوصیات ہیں لیکن ماحول دوست نہیں۔

آیئے کافی کا حال ملک بہ ملک دیکھتے ہیں
اعداد و شمار 2026/2025 کے ہیں۔
1. برازیل
کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کی پیالی میں کافی کہاں سے آئی ہے؟ بہت زیادہ امکان ہے کہ برازیل کی ہو۔ جنوبی امریکہ کا یہ ملک دنیا میں کافی کا سب سے بڑا پیدا کار ہے، 2026/2025 میں 63 ملین (3ء6 کروڑ) میٹرک ٹن کافی تیار کی۔ برازیل دنیا کی کافی کی کل پیداوار کا تقریباً 2ء35 فیصد پیدا کرتا ہے۔

2. ویتنام
ویتنام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کافی پیدا کرنے والا ملک ہے۔ پر یہ برازیل کے مقابلے میں آدھا ہی پیدا کر پاتا ہے۔ اس نے 32 ملین تھیلے پیدا کیے ، یہ دنیا کی کل پیداوار کا 18 فیصد ہوتا ہے۔

3. کولمبیا
کولمبیا ہے تیسرے نمبر پر کافی کے 5ء12 ملین تھیلے پیدا کیے، اس کا دنیا کی کافی میں حصّہ 12 فیصد ہے۔

4. انڈونیشیا
دنیا میں چوتھے نمبر پہ سب سے زیادہ کافی پیدا کرنے والا ملک ہمیشہ کی طرح رہا انڈونیشیا، اس نے 37ء12 ملین پیدا کیے۔ یہ ہر سال کافی کی لاکھوں بوریاں برآمد کرتا ہے۔
انڈونیشیا کی ایک کافی ’کوپی لواک‘ مشہور اور بڑی مہنگی کافی ہوتی ہے۔ اس میں ایک خاص قسم کی خوشبو ہوتی ہے جس کی وجہ دلچسپ ہے۔

پہلے تو ایک جانور کا ذکر ضروری ہے جسے انگریزی میں ’سیویٹ‘ کہتے ہیں، بنگلہ میں ’باگداش‘ اور انڈونیشین میں ’موسنگ،‘ پاکستان میں یہ جانور نہیں پایا جاتا، یہ لومڑی سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔ یہ جانور یوں تو گوشت اور سبزی سب ہی کچھ کھاتا ہے، اور کافی کے پھل بیج سمیت کھاجاتا ہے۔ یہ بیج ثابت نکالتا ہے، تو اس کے فضلے سے یہ بیج جمع کر لیے جاتے ہیں، اور پھر دھو کر اور پیس کر کافی تیار کی جاتی ہے؛ اس کا تو مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے، اور کیا خوشبو ہوتی ہے، واہ۔

اس کے شروع ہونے کی کہانی یہ ہے کہ سولہویں اور سترھویں صدی میں انڈونیشیا پرتگالی، ڈچ اور انگریزوں کی نو آبادی تھا۔ نوآبادکار چاہتے تھے کہ مقامی لوگ ان کے لیے کافی اگائیں۔ تو مقامی کافی کے کچھ پھل جمع کرتے وقت زمین پر گرا کر چھوڑ دیتے تھے تاکہ اپنے پینے کے لیے وہ بعد میں انہیں جمع کر لیں۔ لیکن یہ جانور موسنگ ان پھلوں کو کھا جاتا تھا، پھل کا گودا ہضم ہوجاتا اور بیج ثابت نکل جاتے۔ یہ مقامی ان بیجوں کو جمع کر کے پیس لیتے اور کافی بناتے - اور واہ، کیا مزے کی کافی نے یوں وجود پایا۔ البتہ کچھ لوگ اسے فضلے سے جمع کرنے کی وجہ سے اسے مناسب نہیں سمجھتے۔ خیال رہے کہ موسنگ کے فضلے میں جو خوشبو آتی ہے وہ ایک کیمیائی مادّے کی وجہ سے ہے جو اس کے ایک غدہ جسے اردو میں 'عجان' اور انگریزی میں 'پیرینیم' کہتے ہیں سے نکلتا ہے۔

5. ایتھوپیا
اس کے بعد نمبر آتا ہے ایتھوپیا کا، جو افریقی کافی پیدا کرنے والے ممالک میں اوّل نمبر پر ہے۔ ایتھوپیا نے 56ء11 تھیلے کافی پیدا کی، جو دنیا کی کل پیداوار کا 5ء6 فیصد بنتا ہے۔

6. یوگنڈا
افریقہ کی ایک اور کافی پیدا کرنے والی بڑی قوم یوگنڈا ہے۔ کافی پیدا کرنے میں اس نے ترقّی کی ہے ، پہلے اس کا نمبر دسواں تھا لیکن اب یہ چھٹے پر آتا ہے۔ اس نے اس بار 56ء11 ملین تھیلے کافی پیدا کی ہے۔ اب یوگنڈا کل عالمی کافی کی پیداوار کا 4 فیصد فراہم کرتا ہے۔

7. بھارت
بھارت بھی کسی سے کم نہیں، ایشیا میں سب سے زیادہ کافی پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ بھارت نے اپنی ساتویں نشست برقرار رکھی ہے۔ اس نے 43ء6 ملین تھیلے کافی پیدا کی۔ یہ عالمی کافی کی پیداوار کا 6ء3 فیصد ہے۔

8. ہونڈوراس
وسطی امریکی میں پہلے نمبر پر آنے والا ہونڈوراس امسال عالمی منڈی میں چھٹے نمبر سے کھسک کر آٹھویں نمبر پر آیا ہے۔ اس سال ہونڈوراس نے 53ء5 ملین تھیلے کافی پیدا کی ہے۔ ہونڈوراس نے دنیا کو 1ء3 فیصد کافی فراہم کی ہے۔

9 . پیرو
جنوبی امریکہ کا پیرو اس سال کافی کے 7ء2 ملین تھیلے پیدا کر کے نویں نمبر پر رہا، جو دنیا کی کافی کا 7ء2 فیصد بنتا ہے۔

10. میکسیکو
دنیا میں کافی پیدا کرنے والے چوٹی کے ممالک میں شمالی امریکہ کا ملک میکسیکو بھی ہے اس سال کافی کے 08ء4 ملین تھیلے پیدا کیے۔ میکسیکو کی پیداوار دنیا کی کافی کا 3ء2 فیصد رہی۔

نیچے دیے گےؑ ممالک کی پیداوار کے اعداد و شمار 2022 کے ہیں:
11۔ جمہوریہ وسطی افریقہ 316 ہزار تھیلے
12. گوئٹے مالا 225 ہزار تھیلے
13. گنی 200
14. لاوؑس 178
15. نکارا گوا 143
16. چین 108
18. آیوری کوسٹ 91
19. کوسٹا ریکا 79
20. تنزانیہ 63
21. کونگو 62
22. وینیزویؑلا 56
23. مڈاگاسکر 49
24. کینیا 49
25. پاپوا نیو گنی 45
26. ایل سلواڈور 32
27. یمن 30
28. فلیپین 30
29. راوانڈا 27
30. کمبوڈیا 24
31. بولیویا 24
ڈامینکن رپبلک 23
32. ٹوگو 23
33. انگولا 20
34. تھایؑ لینڈ 17
35. پناما 12
36. مالاوی 11

’شتاب کافی،‘ حقیقت کیا ہے
شتاب (انسٹینٹ) کافی پر ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور اب کچھ مزید تفصیلات یہاں دے رہے ہیں۔

لکھتے ہیں کیرن فریڈریک سن
آیئے سمجھتے ہیں کہ شتاب کافی اور عام کافی میں کیا فرق ہے؟ اور شتاب کافی آخر ہے کیا؟
’شتاب کافی‘ باقاعدہ کافی کے مقابلے میں جلد تیار ہو جاتی ہے، سَستی پڑتی ہے اور آسان بھی ہے۔ یہ صفوف کی شکل میں ہوتی ہے اسے بس گرم پانی میں ڈالنا ہوتا ہے، جیسے ہم چائے بناتے ہیں۔ شتاب کافی بھی کافی کے ثابت بھنے ہوئے بیجوں سے بنتی ہے۔ انہیں پیس کر اور پکا کر پانی نکال دیا جاتا ہے اب کافی کا خشک زیرہ رہ جاتا ہے۔ جب آپ اس زیرے کو پانی میں ڈالتے ہیں تو پینے کے لائق کافی تیار ہوجاتی ہے۔

’شتاب کافی‘ کیسے بنتی ہے
’شتاب کافی‘ کا صفوف بنانے کے دو طریقے ہیں: ایک ہے پھوار کو خشک کرنے کا عمل؛ اور دوسرا کافی کی برف جما کر خشک کرنا۔

1- پھوار خشک کرنے میں گرم کافی کو تقریباً 480 ڈگری فارن ہائیٹ حرارت پر ابال کراس کی پھوار کو ایک گرم توے پر پھینکا جاتا ہے۔ جب کافی توے سے ٹکراتی ہے تو پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور کافی خشک ہو کر زیرا زیرا بچ جاتی ہے۔

2- کافی کی برف جما کر خشک کرنا زیادہ عام ہے۔ کافی کا پانی ملا کر پہلے ایک محلول بنا لیا جاتا ہے، جسے پھر تقریباً 20 ڈگری فارن ہائیٹ تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے تاکہ یہ پورا برف نہ ہو جاےؑ۔ اس کے بعد اس پلپلی برف کومنفی 40 ڈگری فارن ہائیٹ کے درجہ حرارت پر ایک پٹّرے، پیپے یا طشت پرمزید ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے منجمد کافی کی سِل بن جاتی ہے، اب اسے چورا چورا کر دیا جاتا ہے، جو خشک کرنے والے جوف میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں برف بخارات بن کر اُڑ جاتی ہے، اور ‘شتاب کافی‘ کا زیرہ رہ جاتے ہیں۔

’شتاب کافی‘ میں کیفین کتنی ہوتی ہے؟
شتاب کافی میں عام کافی کے مقابلے میں کم کیفین ہوتی ہے، جو ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو کم کیفین پسند کرتے ہیں۔ ایک پیالی ‘شتاب کافی‘ میں 30 سے 90 ملی گرام کے درمیان کیفین ہوتی ہے، جب کہ عام کافی میں 70 سے 140 ملی گرام کے درمیان ہوتی ہے۔
’شتاب کافی‘ کا ایک ممکنہ منفی پہلو اس کی کیمیائی ساخت ہے۔ اس میں ایکریلامائیڈ، ایک نقصان دہ کیمیائی مادّہ ہوتا ہے جو کافی کی بیج بھوننے پر بنتا ہے۔ شتاب کافی میں عام کافی کے مقابلے میں یہ دو گنا تک ہو سکتا ہے۔ اس میں اعصابی نظام کو نقصان پہنچانے اور کینسر کے خطرے کو بڑھانے کی صلاحیت ہے، اگر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے۔ البتہ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ شتاپ کافی میں یہ اُس مقدار سے کم ہے جو نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

شتاب کافی کے ابتدائی نسخے

لکھتے ہیں جسٹن سلیوان
مارک پینڈرگاسٹ اپنی کتاب ’آکسفورڈ کمپینین ٹو امریکن فوڈ اینڈ ڈرنک‘ میں لکھتے ہیں کہ، شتاب کافی کے اوّل اوّل نسخے جو ملتے ہیں وہ1771 کے ہیں؛ کافی کے یورپ میں متعارف ہونے کے تقریباً 200 سال بعد کے ہیں؛ جان ڈرنگ کو اس "کافی آمیزہ" کاحقِ ایجاد (پیٹنٹ) برطانیہ میں دیا تھا۔

پھر، 19ویں صدی کے آخر میں، گلاسگو میں ایک فرم نے ’کیمپ کافی‘ نام کی ایک شئے ایجاد کی، یہ سَت تھا پانی، چینی، کافی اور چِکوری (بیخ کاسنی، سدا بہار اور نیلے پھولوں کی ایک کثیر الفوائد بوٹی، جس کے پتّے بطور سلاد استعمال کیے جاتے ہیں اور اس کی موٹی تکونی جڑ خشک کر کے بھون لی جاتی ہے اسے پیسنے کے بعد کافی میں ملا کر یا کافی کے نعم البدل کے طور پر استعمال کرتے ہیں) کا۔ عام صارفین کے لیے، کیمپ کافی کا ایک نسخہ 1800 کی دہائی کے وسط سے آخر تک برطانیہ کی خوردہ مارکیٹ میں آیا۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، شتاب کافی کا سب سے قدیم تذکرہ خانہ جنگی کے دوران ملتا ہے، جب فوجی اپنی توانائی کو بڑھانے کے ایسے طریقے تلاش کر رہے تھے جو آسانی سے جنگی بھاگ دوڑ میں ساتھ رکھے جا سکتے تھے۔

سان فرانسسکو میں 1800 کے وسط کے آس پاس، جیمز فولگر اور ان کے بیٹوں نے ایک کافی کمپنی شروع کی۔ فولگرز نے پہلے ڈبے میں بند بیج فروخت کیے جنہیں گھر میں بھوننے اور پیسنے کی ضرورت نہیں تھی، اسلیے اس نے سونا دوڑ ’گولڈ رش‘ کے زمانےمیں کان کنوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ اس سے پہلے کافی کی بیج بھوننا اور پیسنا ایک دردِ سر تھا۔

شتاب کافی تجارتی طور پر دستیاب

لکھتے ہیں ڈریو اینگرر
اس کے بعد یہ کمپنی ریاستہائے متحدہ میں کافی کی دو مقبول ترین برانڈز میں سے ایک بن گئی۔ دوسرا میکسویل ہاؤس تھا۔ اگرچہ ان میں کی کسی بھی کمپنی نے دوسری جنگ عظیم کے بعد تک شتاب کافی متعارف نہیں کرائی، لیکن انہوں نے اپنی پِسی ہوئی کافی کی بیجوں کے مرکب سے پینے کے لیے کافی بنانا آسان بنا دیا۔

1906 میں سائرس بلینک صفوف کافی کو پرچون کی دکانوں تک لے آئے۔ 1910 میں جارج واشنگٹن (امریکی صدر نہیں) نامی ایک یورپی تارکِ وطن نے پکی ہوئی کافی سے کافی کے زیرہ کو بہتر کیا اور ریاستہائے متحدہ میں پہلی بار تجارتی پیمانے پر شتاب کافی متعارف کرائی، جو اس کے بعد پینے کے لیے بنانے میں آسانی کی وجہ سے پہلی جنگ عظیم کے دوران مقبول ہوگئی۔

شتاب کافی میں اگلی بڑی بہتری 1938 میں آئی جب نیسلے نے نیسکیفے کا آغاز کیا۔ اسے مینار نما تندوروں میں مائع کافی چھڑک کر خشک کرکے بنایا گیا تھا۔ یہ خشکا پانی ملانے پر پینے کے لائق کافی بن گئی۔ یہ اب بھی بازار میں سب سے زیادہ مقبول شتاب کافیوں سے ایک ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ 2012 میں، نسکیفے نے شتاب کافی کی بِکری کا 74 فیصد حصّہ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

شتاب کافی میں عام کافی کے بہت سے فوائد برقرار رہتے ہیں۔ اس میں بہت سے اینٹی آکسیڈنٹ (مانع ِتکسید) ہوتے ہیں، بلکہ پکانے کے عمل کی وجہ سے ممکن ہے یہ عام کافی سے بھی زیادہ ہوں۔ تجربات سے پتا چلا ہے کہ یہ دماغی افعال کو بہتر بناتا اور نظامِ ہضم کو اچھا کرتا ہے۔ کافی پینے والوں میں بعض اعصابی بیماریوں جیسے الزائمر اور پارکنسنز کے پیدا ہونے کا امکان بھی کم ہوتا ہے اور انہیں ذیابیطس اور صلابتِ جگر اور جگر کے سرطان کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

عالمی سطح پر شتاب کافی کی مقبولیت
شتاب کافی کی مانگ عالمی سطح پر پھیل رہی ہے- چین میں خاص کر؛ پہلے، چین کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں کافی فی آدمی سال میں دو کپ پی جاتی ہے (دوسرے لفظوں میں، یہ وہ مقدار ہے جو دوسری جگہوں پر لوگ روز لنچ سے پہلے ہی پی پلا چکتے ہیں)، اور اب چین شتاب کافی کی چوتھی بڑی منڈی ہے، یعنی اب چینی کافی کے لیے ہروقت ہی تیار رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چین میں ہر 15 گھنٹے بعد ایک نیا اسٹار بکس کھلتا ہے۔
چاہے آپ کو شتاب کافی پسند ہو یا نہ ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اصلی کافی ہے، اور یقینی طور پر پینے کے لیے اس کا بنانا عام کافی کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔
****************************************************************
حاشیہ
*کوئی بھی ملک جو کسی بھی قسم کی کافی سالانہ 60 کلو یا 132 پائونڈ، یعنی 1000 بوری سے زیادہ پیداوار کرتا ہے تو اسے کافی پیدا کرنے والا ملک سمجھا جاتا ہے۔
ہر سال 29 ستمبر کو یومِ کافی منایا جاتا ہے

اس مضمون کی تیاری میں نیچے دی گئی وبگاہوں سے مدد لی گئی ہے
https://coffeeofthenorth.org/top-10-coffee-producing-countries-in-the-world/
Wikipedia
https://www.britannica.com/topic/coffee
https://www.ncausa.org/About-Coffee/What-is-Coffee
20 Fun Facts About Coffee - Coffee Informer

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ