کافی قسط 3

کافی قسط 3
بوسٹن ٹی پارٹی اور کافی
'بوسٹن ٹی پارٹی' کے واقع سے پہلے برطانیہ کی امریکی نو آبادی کی اکثریت چائے کی رسیا تھی (اوربرطانیہ میں تو یہ مشروبِ خاص تھا ہی)۔ بہرحال 1773 عیسوی میں برطانیوی حکومت کی جانب سے چائے پر ٹیکس بڑھانے جانے پر امریکہ میں پرجا نے گودیوں پر رکھی سینکڑوں درآمد شدہ پیٹیاں بطور احتجاج سمندر برد کر دیں۔ اُس زمانے کا مشہور نعرہ رہا ’نمائندگی نہیں، ٹیکس نہیں‘ (انگریزی: نو ٹیکسیشن ودآئوٹ رپریزنٹیشن)۔ اُس وقت سے امریکہ میں کافی پینا حب الوطنی سمجھا جانے لگا؛ اور کافی یہاں کا قومی مشروب ہو گیا۔ 1973 میں امریکی محکمہء ڈاک نے اس سلسلے میں ڈاک کا ایک ٹکٹ جاری کیا تھا جس کی تصویر ہم نے اوپر لگا دی ہے۔
کافی کے پودے بھی اٹھارہویں صدی میں نئی دنیا تک پہنچے۔ بوسٹن ٹی پارٹی تک یہ مشروب امریکہ میں مقبول نہیں تھا۔ اس کے بعد سے برطانیہ کی مخالفت میں اور حُب الوطنی کے اظہار کے لیے کافی نے چائے کی جگہ لے لی۔ دوسرے مسائل اور خانہ جنگی نے بھی کافی کی کھپت میں مدد دی، فوجیوں پر انکشاف ہوا کہ کیفین ان کی توانائی کو مزید بڑھاتی ہے۔ ان وجوہات سے جو کام تاخیر سے ہوتا، یعنی کافی کا امریکہ میں پھیلنا، وہ جلدی ہوگیا۔ صدر ٹیڈی روزویلٹ )چھبیسویں صدر( کو امریکہ کے بڑے کافی کے رسیائوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اُس کے بارے میں افواہیں ہیں کہ وہ روزانہ گیلن بھر کافی چڑھا جاتا تھا۔ روز ویلٹ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کافی کمپنی "میکس ویل ہاؤس" کا مشہور مقولہ "آخری قطرے تک بہترین" اسی کا کہا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس نے اس وقت کہا جب اسے اینڈریو جیکسن )ساتویں صدر( کے ریاست ٹینیسی میں واقع تاریخی گھر میں کافی پیش کی گئی۔

اٹھارہویں صدی کے آخر میں کافی کی تجارت ایک بین الاقوامی منڈی کا درجہ پا چکی تھی اور کاروباری حضرات اس مشروب سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لئے نِت نئے ذرائع تلاش کر رہے تھے۔ 1864 میں پِِِِٹِس بَرگ، امریکہ، کے رہنے والے دو بھائیوں جَون اور چارلس آربَکل نے ایک نئی خودکار مشین خریدی جو کافی کے بیجوں کو چھِلکوں سے علیحدہ کر کے بھون دیتی تھی۔ آربَکل بھائیوں نے بھنی ہوئی کافی ایک ایک پاؤنڈ کاغذ کے تھیلوں میں بند کر کے فروخت کرنا شروع کی۔ ا نہوں نے اس کافی کا نام "آرِیوسا" رکھا اور مغربی امریکہ کے کاؤ بوائز میں اس کی فروخت کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ "جیمز فولگر" نے اسی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کیلیفورنیا کے سونے کے کانکنوں کو کافی بیچنا شروع کر دی۔ اس طرح کافی پیدا کرنے والوں کو ایک نئی راہ مل گئی۔ اس میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ مثلاًمیکس وَیل اور ہِلز برادرز۔

1960 کے عشرے میں کافی کی خصوصیات کے بارے میں آگاہی پھیلنا شروع ہو گئی۔ اس سے متاثر ہو کر 1971 میں پہلا "اسٹار بَک" امریکی شہر سِیاٹل میں کھولا گیا۔ اب اسٹار بک کافی کی ایک اہم شناخت ہے۔ عوامی سطح پر کافی پینے کا شوق بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر انفرادی کیفوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے …… جنہیں اپنی مقامی طور پر بھونے گئے بیجوں کے ساتھ صاف ستھری پائدار تجارت پر فخر ہے۔ کافی ایک نفیس تجارت بن چکی ہے جو اپنے ذائقوں کی پیچیدگی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے قابلِ قدر ہے ایسے ہی جیسے پاکستان میں چائے۔

[بَوسٹن ٹی پارٹی: 16 دسمبر 1773 عیسوی کو امریکی ریاست میساچیوسِسٹس کے شہر بَوسٹن کے لوگوں کا ایک سیاسی اور تجارتی احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ اس کا نشانہ برطانوی پارلیمان سے پاس شدہ "ٹی ایکٹ" تھا جو 10 مئی 1773 کو پاس ہوا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت "برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی" کو اجازت دی گئی کہ وہ چین سے چائے خرید کر بغیر ٹیکس ادا کیے امریکی نو آبادیوں میں فروخت کر سکتی ہے۔ ایک سیاسی تنظیم "آزادی کے بیٹے" نے اس ایکٹ کی شدید مخالفت کی کہ، یہ اُن کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مظاہرین نے امریکی مقامیوں) لال ہندیوں( کے بھیس میں ہلّا بول کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے بھیجی گئی چائے کی پوری کھیپ کو تباہ کر دیا۔ احتجاجی مظاہرین نے بندرگاہ میں جہازوں پر چڑھ ہو کر تمام چائے کی پیٹیاں سمندر میں پھینک دیں۔ برطانوی حکومت نے اس احتجاج کو غدّاری گردانتے ہوئے سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔ اس حادثہ نے امریکی انقلاب کو ہوا دی اور یہ امریکہ کا ایک تاریخ ساز واقعہ بن گیا۔ یہ ٹی پارٹی، برطانوی امریکہ میں ٹی ایکٹ کے خلاف مزاحمتی تحریک کا عروج تھی۔ یہاں کی برطانوی نوآبادی نے اس ایکٹ پر اعتراض اُٹھایا کہ ’نمائندگی نہیں، ٹیکس نہیں‘ کے اصول کے تحت یہ ان کے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ٹیکس صرف ان کے منتخب نمائندے ہی لگا سکیں گے نا کہ ایسی پارلیمان کے ذریعے جس میں اُن کی نمائندگی سرے سے ہے ہی نہیں۔ علاوہ ازیں حکومتِ برطانیہ کے زیرِ سایہ ایسٹ اینڈیا کمپنی کو چائے کے مقامی درآمدگان پر سبقط دیی گئی تھی۔ انہوں نے اس اقدام کو اپنے کاروبار کی مزید حق تلفی سمجھتے ہوئے بہت ناراضگی کا اظہار کیا۔ بوسٹن ٹی پارٹی کا واقعہ برِ صغیر کے عوام کی 1857 کی جنگِ آزادی کی یاد دلاتا ہے۔ جس کا آغاز ہندوستانی فوجیوں کے بندوق کے کارتوسوں کے سِرے پر گائے یا سور کی چربی کے استعمال پر اعتراض سے ہوا۔ ان کو کارتوس بندوق میں ڈالنے سے پہلے اس چربی چڑھے سِرے کو دانتوں سے کاٹنا ہوتا تھا۔]
In 1973, the U.S. Postal Service issued a set of four stamps, which combined to form one scene of the Boston Tea Party.
کیپوچینو
کیپوچینو کو یہ نام اسے کپوچین راہبوں سے ملا ہے۔ کیپوچین راہب (تفصیل اگلے پیرا گراف میں) کافی کے دھتّی نہیں تھے لیکن وہ لوگ کتھئی کافی میں جب دودھ ملاتے تھے تو کافی کا رنگ خاکی ہو جاتا تھا۔ یہ رنگ انیسویں صدی کے ان کافی پینے والے راہبوں کو ان کے خاکی چوغوں ملتا جلتا لگتا تھا۔ یہیں پر سب سے پہلے دودھ والی کافی "کیپوزِینر" بنائی گئی تھی۔ جدید دور کی جھاگ والی کیپوچینو بہت بعد میں تیار ہوئی اور یہ اطالوی تخلیق تھی۔

[کیپوچین ایک عیسائی فرقہ ہے۔ کیپوچیو اطالوی لفظ ہے جو چوغے کے ٹوپ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس فرقے کے لوگ دودھ ملی کافی جیسے رنگ کے چوغے پہنتے تھے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ تیرہویں صدی کے ایک عیسائی بزرگ فرانسِس اسیسی نے ایک فرقہ قائم کیا تھا، اس کے ماننے والے فرانسسکن کہلاتے تھے۔ کیپوچینی یا کیپوچِن راہبوں نے سولہویں صدی میں اس فرقے کے ماننے والوں کی اصلاح کے لیے ایک تحریک چلائی تھی وہ لوگوں کو اپنے پُرکھوں کی طرح سخت اور سادہ زندگی گزرنے کی طرف دعوت دیتے تھے]

کتھئی بیج
کچّی کافی بھُنی ہوئی کافی سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ جب بیجوں کو چُنا جاتا ہے تو وہ ہرے رنگ کے ہوتے ہیں۔ بھونے جانے کے دوران نشاستہ ٹوٹ کر شکر میں اور شکر پِگھل کر راب میں تبدیل ہو جاتی ہے جو بیجوں کو کتھئی رنگ دیتا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے آپ روٹی کو سینک کر کتھئی کر دیتے ہیں۔ (یہ کیمیائی تعامل ’میلارڈ‘ کہلاتا ہے)۔ اس کے ساتھ ایک تیل بھی نکلتا ہے جسے ’کیفیول‘ کہتے ہیں۔

کافی اور اٹلی
حیران کُن اَمر یہ ہے کہ آج کے دور میں کافی کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ اطالوی ہیں۔ مثلاَ اَیسپریسَو، ڈوپیو، کیپوچینو، کیفے لاٹے اور مَچیاٹو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسپریسو مشین انیسویں صدی عیسوی میں اٹلی میں ہی ایجاد ہوئی تھی۔ ایسپریسو ایک کثیف مشروب ہے جو تیز گرم پانی کو بلند دباؤ کے ساتھ باریک پِسی ہوئی کافی میں سے گزار کر تیار کرتے ہیں۔ ایسپریسو دوسرے کئی کافی مشروبات جیسے کیپوچنو، کیفے لاٹے اور امریکانو کی بنیاد بنتا ہے۔

’کَپ آف جو‘
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ایک مشہور جملہ "اے کپ آف جو" امریکی بحریہ سے آیا ہے۔ اِس کی پسِ منظر کہانی
یہ ہے کہ ایڈمرل جوزِفَس ڈینیل نے جنگِ عظیم اوّل (1914-18) میں جنگی کشتیوں پر شراب پینے پر پابندی عائد کر دی تھی لہٰذا اس صورت میں بہترین متبادل کافی ہی تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دعویٰ تحقیق طلب ہے کیوں کہ یہ محاورہ 1930 کے بعد ہی کسی تحریر میں نظر آیا۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ ’جو‘ تلخیص ہے ’جَموک‘ کی، جَموک خود "جاوا" اور "موکا" کے ملاپ سے وجود میں آیا۔ جاوا۔ موکا کافی کی قِسمیں ہیں۔

شتاب کافی
فوری حاضر قسم کی کافی جدید دور کی ایک اہم سہولت ہے جب کہ پہلے پہل اس کا استعمال 1771 عیسوی میں برطانیہ میں ہوا۔ اس کے بنانے کا طریقئہ کار اُس وقت سے چلا آ رہا ہے۔ امریکہ میں پہلی مقبول فوری کافی ’واشنگٹن کافی‘ 1900 عیسوی کے آغاز میں متعارف ہوئی؛ اور نیسکیفے کی پھواری- خُشک کافی 1938 میں پہنچی (پھواری: کافی کے محلول کی پھوار کو گرم توے پر چھڑکا جاتا ہے، وہ فوراً سوکھ جاتا ہے اور ایک سفوف کی شکل میں جمع کرلیا جاتا ہے)؛ دوسرا طریقہ کافی کے محلول کو جما کرسبلیمیشن، یعنی برف پانی ہوئے بغیر بھاپ بن کر اڑ جائے، کے ذریعے شتاب کافی تیار کرنے کا ہے۔ منجمد خشک کافی جو دُکانوں پہ عام مل جاتی ہے، وہ 1960 عیسوی سے زیرِ استعمال ہے۔

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ