عرب کی شراب

عرب کی شراب
عرب کی شراب
سولہویں صدی میں جب ترکوں نے جزییرہ نما عرب پر قبضہ کیا تو کافی کی کھپت پوری سلطنت ِ عثمانیہ میں پھیل گئی۔ اس علاقے کے مسلمان نشہ آور مشروبات نہیں پیتے تھے اور کافی اس کا بہترین نعم البدل تھا اور یہ ’کاہوے‘ کہلایا جس کا مطلب تھا ’عرب کی شراب ‘۔ یہ لفظ عربی زبان کے لفظ قَھُوۃ سے نکلا جو خود لفظ قَھِیَ سے اخذ کیا گیا جس کا مطلب “آسودگی “ ہے۔
ایک وقت وہ بھی تھا کہ کافی پینے والا موت کا سزاوار ہوتا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان مراد چہارم قہوہ خانوں کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ اِن جگہوں پر عوام اُس کے خلاف منصوبے بناتے ہیں۔ 1511عیسوی میں مکّہ مکرمہ کے ترک گورنر خیر بیگ نے کافی پر پابندی عائد کر دی کہ اس سے لوگوں میں انتہا پسندی کے خیالات تحریک پاتے ہیں لہٰذا یہ ایک خطرناک چیز ہے۔ اسے یقین تھا کہ کافی شراب کے برابر ایک خطرناک نشہ آور مشروب ہے جس کی قران مجید میں ممانعت آئی ہے۔ اس نے کافی کے تمام ذخائر کو ضبط کر کے نذرِ آتش کر دیا۔ بہرحال مصر کے سلطان کی سفارش پر یہ پابندی ختم کر دی گئی۔ 1633عیسوی میں سلطان مراد نے استنبول میں کافی کے استعمال کو قابلِ تعزیر قرار دیا جس کی سزا موت ہو سکتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ لوگ قہوہ خانوں میں جمع ہو کر اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ اس نے کافی کی خرید و فروخت کرنے والوں کی پٹائی کا حکم دیا۔ دوسری مرتبہ جرم کرنے کی سزا یہ تھی کہ خرید و فروخت کرنے والے کو چمڑے کے تھیلے میں بند کر کے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ کافی کی تجارت کم کرنے میں ناکام رہا۔
سولہویں اور اٹھارہویں صدی کے درمیان کئی یورپی اور مشرقِ وسطیٰ کے حکمرانوں نے اس مشروب پر پابندی لگانے کی کوشش کی۔ سولہویں صدی میں کیتھولِک کلیسا کے اکثر پادریوں کو یہ یقین تھا کہ کافی پینے سے کلیسا کے باسیوں میں برائی پھیل جائے گی کیوں کہ یہ بہت لذیذ ہے۔ وہ اسے شیطان سے منسوب کرتے تھے۔ بالآخر پوپ کلیمنٹ ہشتم نے کافی پینے کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ یہ ایک معمول کا مشروب ہے۔ انہوں نے اسے بہت پسند کیا یہاں تک کہ اسے بپتسمہ بھی دیا۔ پوپ کے اس مبارک فیصلے کے بعد کافی کی تجارت یورپ میں چمک اُٹھی۔
اب تمام مذاہب میں سے صرف تین مسیحی فرقے کافی نہیں پیتے۔ یہ مورمن کلیسا، سیونتھ ڈے ایڈونٹسٹ اور راسٹا فیرین ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ گرم مشروبات صحت کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ مورمن عقیدہ کے لوگ کافی نہ پینے کی ایک سادہ دلیل دیتے ہیں: ہمیں یقین ہے کہ نبی جوزف سمتھ کو خدا کی طرف سے وحی آئی تھی کلیسا کو ایک مخصوص خوراک لینے کی ہدایت دو(اور کافی اس میں نہیں)۔

[جوزف سمتھ جونیئر (23 دسمبر 1805 سے 27جون 1844) یہ ایک امریکی مذہبی رہنما تھا۔ اس نے مورمن ازم پر ایک فرقے کی بنیاد رکھی۔ سمتھ نے 24 سال کی عمر میں ’مورمن کی کتاب‘ شائع کی۔ اس کے بعد وہ مزید 14 سال زندہ رہا۔ موت کے وقت اس کے پیروکاروں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اُس کا مذہب آج تک زندہ ہے اور پوری دنیا میں اس کے پیروکار لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔]

قہوہ خانے سماجی جگہیں تھیں
کافی دوسرے مشروبات سے ممتاز تھی کیوں کہ اِسے عوامی قہوہ خانوں میں پیا جاتا تھا جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔ لوگ یہاں لطف اُٹھانے آتے تھے نیز ان کا مقصد سماجی رابطوں کو بڑھانا اور دن بھر کی اہم ترین خبروں سے آگاہ ہونا بھی تھا۔ 1675 عیسوی میں قہوہ خانوں جیسی جگہیں پورے برطانیہ میں پھیل چکی تھیں۔ اِن قہوہ خانوں کو باقاعدہ نام دیا گیا۔ مثلاً: ٹَرک ہیڈ، دی یروشلم کافی ہاؤس، سلطانیس وغیرہ۔
آج کے جدید دور کے قہوہ خانے/ کافی ہاؤس کی خصوصیات کسی شراب خانے/ بار یا ریستوران سے ملتی جُلتی ہیں۔ مگر یہ ایک کیفے ٹیریا سے مختلف ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ممالک کے وہ علاقے جہاں مغربی ایشیا سے نقلِ مکانی کرنے والے لوگ آباد ہیں …… وہاں کے کئی قہوہ خانے"شیشہ" بھی پیش کرتے ہیں۔ عراقی، عربی، یونانی اور ترکی زبانوں میں اسے "نارگیل" کہتے ہیں (خیال رہے کہ اردو میں بانس یا سینٹے کی نلکی کو ہم نرکل کہتے ہیں، کیا رشتہ ہے پتا نہیں) جب کہ اُردو اور ہندی میں یہ "حُقّہ" کہلاتا ہے۔ حقّے میں خوشبو دار تمباکو پیا جاتا ہے۔ ایسپریسو بار، کافی ہاؤس کی ایک قسم ہے۔ اس میں ایسپریسو اور ایسپریسو سے تیار شدہ مشروبات پیش کئے جاتے ہیں۔
ثقافتی نکتہٴ نظر سے، قہوہ خانے/کافی ہاؤس وسیع پیمانے پر سماجی رابطوں کے مراکز ہیں: کافی ہاؤس کی سائے میں لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو سکتے ہیں جہاں گفتگو، لکھنا پڑھنا، ایک دوسرے کے ساتھ تفریح یا وقت گزاری ہوتی ہے…… خواہ اکیلے یا گروپ میں ہوں۔ جب سے وائی فائی کا استعمال عام ہوا ہے تو کافی ہاؤس لوگوں کو انٹر نیٹ کی سہولت دینے لگے ہیں تا کہ وہ اپنے فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ استعمال کر سکیں۔ کافی ہاؤس اپنے مستقل گاہکوں کو غیر رسمی کلب کی طرح خدمات پیش کرتا ہے۔ 1950 اور 1960 میں کافی ہاؤس میں موسیقی، گلوکاری اور شاعری کا خصوصاً شام کے وقت اہتمام بھی ہونے لگا۔

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ