حشرات کی روک تھام

حشرات کی روک تھام
حشرات کی روک تھام
صنعت مسلسل ترقّی کر رہی ہے، لیکن تدبیر بھی ضروری ہے
سنڈی مینس
آپ جہاں بھی رہیں حشرات ایک مسئلہ کی صورت میں وہاں موجود ہوتے ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا گھر بالکل نیا ہے یا پرانا حشرات تو یقینی طور پر حملہ کریں گے ہی کریں گے۔ اور جب حملہ ہوتا ہے تو یہ بن بلائے مہمان اکیلے نہیں آتے بلکہ بے شمار مسائل اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ کچھ نہیں کچھ نہیں تو، دیکھنےہی میں یہ خطرناک لگتے ہیں، اور پھر یہ گھر کے مکینوں پر ایک سہل زندگی گزارنے کا طعنہ بھی بنتے ہیں۔ گھر کو حشرات سے پاک رکھنا ناگزیر ہے کیونکہ ان کے ساتھ رہنے سے آپ کے گھر والے بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیےضروری ہے کہ آپ اپنے گھر کی صفائی کا خیال رکھیں۔ اگر آپ اِن اَن چاہے مہمانوں کی مصیبت میں گرفتار ہیں یا ہوسکتے ہیں تو یہاں ان کی روک تھام کےلیے کچھ تدابیر دی جا رہی ہیں۔
روکا کیسے جائے؟
گھر میں حشرات کی روک تھام کے لیے چند تدابیر کا معائنہ کریں:
1۔ کھانے کی جگہ
ہر قسم کی خوردنی اشیا حشرات کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ گھر میں یہ زیادہ تر اس وقت ہوتا ہے جب آپ کھانا ختم کرنے کے بعد اسے وہیں چھوڑ دیں۔ چورا اور بچا کھچا کھانا لازمی طور پر چیونٹیوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے، اور اگلے دن بہت ممکن ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ آپ کی پلیٹ ان سے بھری ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ آپ اپنا اصول بنایں کہ کھانا صرف باورچی خانہ یا کھانے کی جگہ پر ہی کھایا جائے۔ اپنے سونے یا پڑھنے کے کمرے یا گھر کے کسی اور حصّے میں کھانے کی چیز نہ لائیں۔
2۔ گری ہوئی غزا
گری ہوئی غزائی اشیا حشرات کو اپنی جانب راغب کرتی ہیں۔ گری ہوا کھانا یا مشروبات کے بچے کھچے حصّےچیونٹیوں اور دوسرے کیڑوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ان کو فوراً صاف کرنا چاہیےاور اپنی صفائی صرف سامنےنظر آنے والی اشیا تک محدود نہ کریں بلکہ اپنے اسباب خانہ داری اور دیگر سامان کو ہٹا کر چھوٹے سے چھوٹے ذرّے کی صفائی کو یقینی بنائیں۔
3۔ فرش کی صفائی
آپ کی صفائی ستھرائی کا جو بھی طریقہ ہو چاہے فرش پر جھاڑو یا برقی جاروب (ویکیوم کلینر) سے صفائی، اس کو روز کا معمول بنائیں۔ کھانے یا مشروبات کے بَچے کُھچے حصّوں کو فوراً ہٹایا جائے تاکہ حشرات کے لیے کوئی کشش نہ رہے۔
4۔ کوڑے دان
کوڑے دانوں پر ڈھکنا ہونا چاہیے۔ کھلا رکھنے سے یہ نہ صرف بد نما لگتے ہیں بلکہ یہ کیڑوں جیسے کہ لال بیگ، مچّھر، مکّھی اور چیونٹیوں کو متوجّہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جب کوڑے دان بھرنے لگیں تو انھیں فوراً گھر سے باہر کچرا کنڈی پر خالی کر دینا چاہیے۔
5۔ نکاسی کی نالیاں
نکاسی کی نالیاں چاہے کم استعمال ہوتی ہوں یا بالکل استعمال نہیں، تب بھی باقاعدگی سے صاف کرنی چاہئیں۔ کھانے کے بچے کھچے حصّے ان کے پاس نہ ہوں، اور ہوں تو فورا ہٹا نے چاہیے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ بہت سے کیڑے، خاص کر کاکروچ، پانی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس بات کا خیال رکھتے ہوئے اپنے گھرکی نکاسی کی نالیوں میں دراڑوں اور ان کے ٹوٹے ہوئےحصّوں کی مرمت کروائیں۔
6۔ کھانا
غلط طریقے سے رکھا گیا کھانا نہ صرف خراب ہوتا ہے بلکہ یہ کیڑوں کو بھی راغب کرتا ہے۔ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ اپنے کھانے کے برتنوں کو مناسب طریقے سے پورا بند کریں کیونکہ کیڑے کسی بھی چیز میں داخل ہو سکتے ہیں۔
7۔ بے ترتیب گھر
اپنے گھر کو بے ترتیبی سے پاک رکھ کر آپ ایک تیر سے دو شکار کریں گے۔ آپ نہ صرف بد نما گندگی کو صاف کر سکیں گے بلکہ حشرات کو اپنے گھر کی تاک میں رہنے سے بھی باز رکھ سکیں گے۔ اس بات کا دھیان رہے کہ حشرات کواندھیری اور بے ترتیب جگہیں پسند ہیں کیونکہ ایسی جگہوں پر وہ آسانی سے چھپ سکتے ہیں۔ بے ترتیب اشیا کو اپنے گھروں سے ہٹا کر صفائی کریں تو ان کو چھپنے کی جگہوں کا انتخاب کرنے میں مشکل ہو گی۔ اور ہاں آراستہ گھر آپ کو سلیقہ مندی کا تمغہ بھی دلادے گا۔
8۔ پھل اور سبزیاں
پھلوں اور سبزیوں کو اگر مناسب طریقے سے محفوظ نہیں کیا جاتا تو وہ بہت جلد سڑ سڑا جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ ہماری غذائیت کے لئے جزوِ لازم ہیں لیکن یہ کیڑوں کو بھی اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ پھل اور سبزیاں جیسے ہی پک جائیں انھیں استعمال کر لینا چاہیے، اور اگر زیادہ پک جائیں تو پھر پھینک دینا چاہیے۔ پکی ہوئی تازہ اشیاےٴ خورد مکھیّوں اور چیونٹیّوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ غرض یہ کہ انتظامات اعلیٰ ہونے چاہیے ہیں۔
بیت الخلا
اگر آپ کے بیت الخلا کے فلش کا نظام سست ہےتو سفید سرکہ بھری ہوئی نالی میں ڈال سکتے ہیں؛ کسی پلمبر کو دکھا سکتے ہیں؛ اگر خود کرنا ہے تو اس کے طریقے یو ٹیوب پر مل جائیں گے۔ تجویز یہ کیا جاتا ہے کہ سفید سرکہ کا ایک کوارٹ (پوّا) ڈال کر ایک گھنٹے کے لیے چھوڑ دیں، پھر فلش کریں۔ سب سے بہتر ہوتا ہے پرانے ربر کے پائپ کو کموڈ میں گھسیڑ کر صفائی کی جائے۔
جالیاں
بیسن یا نہانے کے ٹب کی نالیوں پر جالیاں لگوائیں، عام طور سے یہ جالیاں ربر کے ڈھکنوں کے ساتھ آتی ہیں۔ پلمبروں کے پاس سب سے زیادہ فون پانی کی نالیوں کے بند ہونے کے آتے ہیں۔ ایسا سب سے زیادہ بالوں کے پھنسنے سے ہوتا ہے یا پھر موٹی گندگی پھنسنے سے۔ جالی لگانے سے آپ تمام گندگی نالیوں میں پھنسنے سے پہلے صاف کر سکتے ہیں۔

-

تبصرہ آپ کا
ﺗﺑﺻره آﭘﮑﺎ